سلطان محمود غزنوی کے ذہن میں ہمیشہ تین سوال کھٹکتے رہتا پہلا سوال یہ کہ میں واقعی اپنے باپ کا بیٹا ہوں کے نہیںStormy Predictions

سلطان محمود غزنوی کے ذہن میں ہمیشہ تین سوال کھٹکتے رہتا پہلا سوال یہ کہ میں واقعی اپنے باپ کا بیٹا ہوں کے نہیں

سلطان محمود غزنوی کے ذہن میں ہمیشہ تین سوال کھٹکتے رہتا پہلا سوال یہ کہ میں واقعی اپنے باپ کا بیٹا ہوں کے نہیں

سلطان کا پورا نام یمین الدولہ ابو القاسم محمود ابن سبکتگین تھا جو تاریخ میں محمود غزنوی کے نام سے مشہور ہوا۔ سلطا ن کی پیدائش بروزمنگل 2نومبر 971ء کو ہوئی اور انتقال 30 اپریل 1030ء کو ہوا۔سلطان محمود 997ء سے اپنے انتقال تک سلطنت غزنویہ کا حکمران تھا۔ انہوں نے غزنی شہر کو دنیا کے دولت مند ترین شہروں میں تبدیل کردیا اور اس کی وسیع سلطنت میں موجودہ مکمل افغانستان، ایران اور پاکستان کے کئی حصے اور شمال مغربی بھارت شامل تھا۔ وہ تاریخ اسلامیہ کے پہلے حکمران تھے جنہوں نے سلطان کا لقب اختیار کیا۔

وہ پہلے مسلمان حکمران تھے جنہوں نے ہندوستان پر 17 حملے کئے اور ہر حملے میں فتح حاصل کی ۔اس عظیم مجاہد کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے ہندوستان کے بت کدے لرز اٹھتے تھے ۔سلطان محمود غزنوی نے اپنے زندگی کا زیادہ تر حصہ گھوڑے کی پیٹھ پر سواری کرکے گزارا۔یہ سلطنت غزنویہ کے سب سے مشہور سلطان تھے۔سلطنت غزنویہ 976ء سے 1186ء تک قائم ایک حکومت تھی جس کا دارالحکومت افغانستان کا شہر غزنی تھا۔سلطان محمود غزنوی نے ہندوستان پر 17 حملے کئے ۔جب سامانی حکومت کمزور ہوگئی اور اس کے صوبہ دار خودمختار ہوگئے تو ان میں ایک صوبہ دار سبکتگین366ھ تا 387ھ نے افغانستان کے دارالحکومت کابل کے جنوب میں واقع شہر غزنی میں 366ھ میں ایک آزاد حکومت قائم کی جو تاریخ میں دولت غزنویہ اور آل سبکتگین کے نام سے جانی جاتی ہے۔

بعد میں سبکتگین کا خراسان پر بھی قبضہ ہوگیا۔ اسی سبکتگین کے زمانے میں مسلمان پہلی مرتبہ درہ خیبر کے راستے پاکستان میں داخل ہوئے ۔کہا جاتا ہے کہ سلطان محمود غزنوی کے ذہن میں ہمیشہ تین سوال کھٹکتے رہتے پہلا سوال یہ کہ میں واقعی سبکتگین کا بیٹا ہوں کے نہیں ۔ کیونکہ ان کے متعلق مشہور تھ اکہ یہ بادشاہ کے سگے بیٹے نہیں بلکہ لے پالک ہے دوسرا یہ کہ علماء واقعی انبیاء کے وارث ہے یہ تو خود بے اختیار قوم ہے انبیاء کا وارث تو بادشاہ وقت یا کسی بااختیار آدمی کو ہونا چاہیے تھا ۔ تیسرا یہ کہ میں جنت میں جاؤں گا یا نہیں ۔

انہی تین سوالات کو ذہن میں لے کر وہ ہمیشہ پریشان رہتے تھے ایک مرتبہ کسی سفر سے واپس آرہے تھے کے راستے میں ایک طالبعلم کو دیکھا جو کتاب ہاتھ میں لیے ایک کباب فروش کے دیئےکے پاس کھڑے ہے ہوا چلتی ہے تو یہ طالب علم دیئے کے ذرا قریب ہوجاتے ہے ۔ زیادہ آگے بھی نہیں بڑھ سکتے کہیں کباب فروش یہ نہ کہ دے کہ بھائی لینا نہیں تو پھر کھڑے کیوں ہو ۔ سلطان محمود نے جب یہ منظر دیکھا تو خادم کو حکم دیا کہ مشعل اس طالب علم کو دیا جائے ۔ خود اندھیرے میں گھر تشریف لے آئے اسی رات خواب میں آپﷺ کی زیارت ہوئی آپﷺ نے ایک جملہ ارشاد فرمایا اور سلطا ن محمود کو اپنے تینوں سوالوں کے جواب مل گئے معلوم ہے جملہ کیا تھا ملاحظہ ہو اے سبتگین کے بیٹے تیرے جنت میں جانے کے لئے اتنا کافی ہے کہ تونے اس انبیاء کے وارث کو چراغ دیا

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *